ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دیہی علاقوں کے عوام صحت کا خاص خیال رکھیں: چنتامنی تعلقہ پنچایت صدرشنتما کا خطاب

دیہی علاقوں کے عوام صحت کا خاص خیال رکھیں: چنتامنی تعلقہ پنچایت صدرشنتما کا خطاب

Tue, 28 Mar 2017 14:08:44    S.O. News Service

چنتامنی:28 /مارچ(محمد اسلم/ایس او نیوز)دیہی علاقوں کے کسان اور عوام صحت کا بہت زیادہ خیال رکھیں اکثر دیہی علاقوں کے عوام صحت خراب ہوجانے پر بھی اسپتال کا رُخ نہیں کرتے اس لئے دیہی علاقوں کے عوام عمدہ اشیاء اور صا ف پانی کو استعمال کرتے ہوئے صحت کو تندرست رکھیں یہ بات تعلقہ پنچایت صدر شنتما نے کہی ۔

آج تعلقہ کے کروٹ ہلی میں ویمنس کالج و این ۔ایس۔ایس۔ طالبات کے زیر اہتمام 2016-17 کے7دنوں کے کیمپ کاافتتاح کرنے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خشکی کے سبب زمینی سطح میں پاک پانی ملنا مشکل ہوتا جارہا ہے ہزاروں فٹ گہرائی میں ملنے والے پانی میں فلورائڈ کی مقدار پائی جارہیہے اس پانی کے استعمال سے لوگوں کے بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ انسان کو صحت بہت بڑی نعمت ہے صحت مند رہیگا تو اس دنیا میں جو چاہئے قوم وملت کی خدمت کریگاصحت کے تعلق سے لاپرواہی برتنا ٹھیک نہیں ہے۔انہوں نے افسوس اور شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چلکنرپور ہوبلی میں پانچ سے زائد سرکاری اسپتال کے شاخ موجود ہے لیکن کسی بھی اسپتال میں دیہی علاقوں کے عوام کا علاج ٹھیک طرح سے نہیں کیا جارہا ہے اسپتالوں کے ڈاکٹرس لاپروائی برت رہے ہیں جس سے دیہی علاقوں کے عوام کو پرائیویٹ اسپتالوں کی جانب رُخ کرنے کی نوبت آرہی ہے۔تعلقہ پنچایت کے نائب صدر شرنیواس نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موبائیل فون کے سبب طلبا کی صحت پر کافی برے اثرات مرتب ہورہے ہیں کافی غور طلب بات یہ ہے کہ والدین بچوں کے موبائیل کے استعمال کرنے پر انہیں ڈانٹے کی بجائے ان دیکھی کردیتے ہیں بچے والدین کی جانب سے نظر انداز کئے جانے پر ہمت پاکر موبائیل فون سے چمٹے رہتے ہیں انہوں نے طلبا کو کھیل کود کی جانب  توجہ دلانے  کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کھیل کود سے نہ صرف اچھی صحت قائم رہتی ہے بلکہ طلبا میں مقابلے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔

اس موقع پر رعیت رادھاکرشنا نے بھی خطاب کیا ۔ کالج کے پرنسپال پروفیسر رام کرشنپا تعلقہ پنچایت رُکن کرشنپا سمیع اللہ پروفیسر کے۔وی۔وینکٹیش ڈاکٹر ایم،این۔راگھو پروفیسر متحر النساء سمیت کئی این ایس ایس کی طالبات موجود تھیں ۔


Share: